ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔
دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔
صدارتی اعزاز یافتہ افسر ڈاکٹر انعم فاطمہ کو تجاوزات کے خلاف کاروائیوں پر عوامی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر منفی مہم کو سیاسی مایوسی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان مونومنٹ پر منعقدہ بنیان مرصوص لیزر شو نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور دفاعِ وطن کے معرکوں کو جدید بصری ٹیکنالوجی کے ذریعے زندہ کر دیا، جس میں شہداء اور غازیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ 'فتح-4' کروز میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے، جو جدید نیویگیشن سسٹم کی بدولت طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی جی اے این ایف کو طلب کرنا قانونی منطق سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے فیصل سلیم کر رہے ہیں، کی جانب سے ایک ایسے ادارے کو جوابدہی کے لیے بلانا جو کیس کا مدعی ہے نہ تفتیشی، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے "سیف ایگزٹ" کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔
یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔
سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور مصالحتی کوششیں مستحکم ہیں اور کسی بھی گروہ کی جانب سے انہیں سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔