کویتی وزیرِ دفاع کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
کانپور میں بھارتی تربیتی طیارہ کھیت میں گر کر تباہ ہوگیا، انسٹرکٹر اور زیرِ تربیت پائلٹ ہلاک ہوگئے، حادثے نے بھارتی ہوا بازی کے حفاظتی نظام پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کو 'کھلی جنگ' کا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا ہے اور اب پاکستانی افواج جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سرحدی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی میں جاری شدید کھینچا تانی اور تنظیمی مسائل کے باعث عمران خان خود فعال قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں
معروف یوٹیوبر عمران ریاض خان پر ڈالرز کی خاطر جھوٹا بیانیہ فروخت کرنے اور صحافتی لبادے میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کا اخلاقی بحران؛ محترمہ نورین اور صدف کے لیے ہمدردی مگر مخالفین کے لیے تضحیک، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتے ہوئے انسانی معیارات
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چند ہفتے قبل معالج ٹیم نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو باضابطہ کانفرنس کال کے ذریعے بریفنگ دی تھی، جس میں کسی سپرا اسپیشلائزیشن کی عدم موجودگی پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ اس پس منظر میں حالیہ عوامی بیانات کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔