Category: سکیورٹی

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔

پاکستان نے افغان حکومت کے زیرِ اثر ابلاغی ادارے المرصاد کے خیبر اور پشاور میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پنجگور کے علاقے جیرک میں سکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کا سرحد پار بھرپور جواب؛ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک، ایف سی کا ایک سپاہی شہید

بگرام ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں تین میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اڈے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ ایک طیارہ ہینگر (جہاں طیارے کھڑے اور محفوظ کیے جاتے ہیں) بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی حالیہ پریس کانفرنس میں کیے گئے دعوے بین الاقوامی رپورٹس اور زمینی حقائق سے متصادم ہیں، جہاں افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں

بھکر کی داجل چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، انصار الاسلام نے ذمہ داری قبول کر لی؛ سکیورٹی ذرائع نے اسے ملک دشمن عناصر کی منظم سازش قرار دے دیا

ذرائع کے مطابق فوری جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر افغان پوسٹوں کو “خاموش” کرا دیا گیا۔ تاہم جانی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔