Category: سکیورٹی

برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی کے 8 دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں پاکستان میں بطور مہاجر مقیم رہے تھے

دھماکے کے فوراً بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن عزم استحکام کے تحت کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں۔

دفاعی ماہرین نے المرصاد کے پاکستان مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے موازنہ اور ٹی ٹی پی کو حماس کے برابر قرار دینا تاریخی حقائق کی سنگین توہین ہے

کارروائی کے دوران دو دہشتگرد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے، جن کے بارے میں سکیورٹی ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ بی ایل اے کے 32 دہشت گرد ہلاک۔ گرفتار شرپسندوں کے سرحد پار لانچ پیڈز سے متعلق اعترافات نے بیرونی ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا

ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی بھی جبر و تشدد کے بغیر ایک باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں مقامی قیادت، شاهي جرگہ اور نمائندہ اداروں نے شرکت کی

آپریشن ’’غضب لِلحق‘‘ کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات 65 فیصد کم ہو گئے؛ نویں ہفتے میں 48 کے مقابلے بارہویں ہفتے میں صرف 12 واقعات رپورٹ ہوئے

حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔