Category: سکیورٹی

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جس کی 76 فیصد نوجوانوں نے توثیق کر دی ہے۔

بی این ایم کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملاقات کر کے جبری گمشدگیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

اٹلی میں مقامی شہریوں کے ہاتھوں افغان پناہ گزینوں کی ہلاکت کے واقعے کو افغان میڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشت گرد ہلاک اور ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

پاکستان اور چین نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز اور ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ضلع کرم کے علاقے تھادو اوبو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجو کی آڈیو منظرِ عام پر؛ بھتہ نہ دینے والے مقامی شہریوں کو کافر قرار دے کر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔

بلوچ خاتون نے ویڈیو بیان میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے معصوموں پر ظلم کو بزدلی قرار دیا ہے اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.

افغانستان کے صوبہ سرِپل میں چار نہتے نوجوانوں کے دن دہاڑے قتل اور بااثر طالبان رہنماؤں سے وابستہ نیٹ ورکس کو حاصل استثنا نے طالبان حکومت کے قانون و انصاف کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ژوب میں مغربی سرحد پر جوانوں کے ساتھ عید منائی اور عزم ظاہر کیا کہ دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف پوری قوت سے آپریشن جاری رہے گا۔