Category: جنوبی ایشیا

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں عہدوں پر واضح اکثریت سے کامیاب۔

علی وزیر کے خلاف مختلف اضلاع میں درج مقدمات پر قانونی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتیں کریں گی۔

ٹی ٹی پی شوریٰ کے رکن مفتی برجاں نے جماعت الاحرار کو فتنہ انگیز اور مجرمانہ گروہ قرار دیتے ہوئے قیادت کے فیصلے کے مطابق ان کے خلاف سخت ترین کاروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

مودی حکومت کے بیانیے کے برعکس پاکستان نے عالمی و علاقائی روابط مضبوط کر کے اپنی سفارتی اہمیت بحال کی ہے، جس سے بھارت میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس میں گہری پھوٹ سامنے آئی ہے، گل بہادر گروپ کے کمانڈر تلوار نے ٹی ٹی پی پر دھوکے سے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے پرنس رحیم آغا خان پنجم کی ملاقات میں صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی۔

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

پاکستان سے افغان مہاجرین کی زبردستی واپسی کے عمل میں تیزی آ گئی ہے، جہاں گزشتہ روز مزید 5 ہزار 363 افغان شہریوں کو تورخم اور اسپن بولدک کے راستے واپس بھیج دیا گیا۔

کونسل کے بیان کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنا اور خواتین کے روزگار پر سخت قدغنیں لگانا نہ صرف بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

پرنس رحیم آغا خان پنجم کے 21 سے 25 مئی گلگت بلتستان دورے کی تیاریاں جاری ہیں، سکیورٹی اور دیگر انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ میڈیا اور ڈیجیٹل ہینڈلز کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے منظم پروپیگنڈا مہم کا انکشاف ہوا ہے۔