خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نیدرلینڈز کے نو منتخب وزیراعظم راب جیٹن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے
معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے
دوسری جانب، ذرائع نے ایچ ٹی این کو بتایا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں الجزیرہ کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کیس کے قانونی پہلوؤں اور شواہد کا جائزہ آئندہ پیشیوں میں لیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرکاری فائلیں جاری کی جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف سائنسی برادری بلکہ عالمی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ ریکارڈ عام کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہے۔ آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘
سیاسی و قانونی ماہرین کے مطابق جدید برطانوی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سینئر شاہی شخصیت کو اس نوعیت کے شبہے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہو۔ بادشاہ کنگ چارلس تھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس خبر پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور معاملہ اب مکمل، منصفانہ اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھے گا۔