روسی صدر کا اپنے ہم منصب شی جن پنگ کے ملک کا یہ پچیسواں دورہ ہے، جو چین اور روس کے مابین "ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے" کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔
نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔
ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔
مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر قائم ہیں۔
عالمی جرائد جن میں فارن پالیسی، دی ڈپلومیٹ اور دی ٹیلی گراف شامل ہیں، انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے رواں سال پاکستانی سفارتکاری اور دفاعی محاذ سے متعلق کامیاب قرار دیا
ماہرین کے مطابق جب سفارتی چھوٹ، اصولوں، نفاذ اور جوابدہی کی جگہ لے لیتا ہے تو ثالثی ایک لین دین بن جاتی ہے۔ اس صورت میں تنازعات اکثر حل ہونے کے بجائے جمود کا شکار رہتے ہیں، جبکہ عام شہری عدم تحفظ اور علاقائی سلامتی کمزور پڑتی رہتی ہے۔
امریکی ری سیٹلمنٹ کے منتظر افغان پناہ گزینوں کی موجودگی کے باعث پاکستان غیر یقینی صورتحال، محدود وسائل اور سخت پابندیوں کے سبب شدید سماجی اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہا ہے
امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس اور سابق کانگریس رکن ٹلسی گبارڈ نے نیو جرسی کے مسلم اکثریتی شہر پیٹرسن کو اسلام پسند نظریے کا گڑھ قرار دیا، جس کے بعد عالمی سیاسی اور مذہبی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا
برطانیہ میں پاکستانی نوجوان عبداللہ تنولی کو 11 سالہ بچی کو چاقو سے مسلح حملہ آور سے بچانے پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ برطانوی جج نے عبداللہ کی بہادری کو سراہتے ہوئے اسے 1,000 پاؤنڈ نقد انعام دینے کا حکم دیا
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی پاکستان کی ثقافت اور صلاحیتوں کے سفیر ہیں اور مختلف اقوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی سالانہ 38 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہیں، تاہم ان کی اصل طاقت ان کی محنت، مہارت اور عزم میں پوشیدہ ہے۔