خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
عالمی عدالتِ ثالثی نے 15 مئی 2026 کو ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا۔ بھارت نے اس تمام انتظامی اور قانونی عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا، لیکن اس کے باوجود یہ تاریخی فیصلہ پاکستان کے حق میں سامنے آیا۔
امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں بریفنگ کے دوران پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کا اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفی پر حملے اور ہراسگی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی یوکے یوتھ ونگ کے ڈپٹی سیکرٹری معاذ ملک پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں مالی فراڈ، بلیک میلنگ، خواتین کے استحصال اور قانون کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ معاملے پر برطانوی سیکیورٹی اداروں سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ اس جنگ بندی کے حق میں بالکل نہیں تھے، لیکن پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے باعث انہوں نے اس فیصلے کی توثیق کی۔
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 28 ملین افراد غربت کا شکار ہیں اور 75 فیصد آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات امداد میں کمی اور خشک سالی ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ مصالحت کی کامیابی کا دارومدار ساکھ اور غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ سینیٹر گراہم جیسے سیاستدانوں کو شاید ایک مخلص ثالث قبول نہیں۔ وہ خطے میں امن کے بجائے مخصوص مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔
امجد طہ کے پاکستان مخالف الزامات کا تفصیلی جائزہ؛ ایران، ثالثی عمل اور بلوچستان سے متعلق دعوے حقائق، سفارتی مؤقف اور زمینی صورتحال کے تناظر میں بے نقاب۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے پاکستان میں ایرانی طیاروں کی پارکنگ سے متعلق رپورٹ حقائق کے برعکس ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے دوران لاجسٹک معاونت کو فوجی تحفظ کا رنگ دینا مخصوص ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔