اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،
رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے امن کے قیام کے لیے اس اقدام پر اتفاق کیا ہے اور یہ پیشرفت حالیہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان 34 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی
امریکی صدر نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، تاہم ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا۔
اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی امن مذاکرات کے خلاف مخصوص حلقوں کے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مبصرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کردار کسی فریق کا چناؤ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔