Category: جنوبی ایشیا

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق طالبان انٹیلی جنس نے کابل میں ہتھیاروں کی منتقلی کے انکشاف پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیاہ سنگ میں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان پر داعش سرپرستی کے الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ داعش کی موجودگی افغانستان میں ہے اور اسے طالبان کی حمایت حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت رسول محمد عرف حماس کے نام سے ہوئی ہے، جو یار محمد کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے گاؤں خواجہ رخیلہ کا رہائشی تھا۔

افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اہم سکیورٹی پیشرفت، خصوصاً آغا جان معتصم کی گرفتاری، سے توجہ ہٹانا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ حربہ ماضی میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں کسی اہم کارروائی کے بعد متوازی فیک بیانیہ سامنے لایا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق زخمیوں میں عمر علی اور صادقہ بی بی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال خار منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترک نمائندے نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترکی دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ پیش رفت سرحد پار دہشتگردی کے روابط کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ پاکستان بارہا افغان سرزمین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

افغانستان کو صرف ایک انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ایک محدود اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں انسانی مسائل اور سیکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔

ارمچی میں چین، پاکستان اور افغانستان کے مابین ہفتہ بھر جاری رہنے والے مذاکرات میں ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم تجاویز پر اتفاق کر لیا گیا ہے، جو علاقائی امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔