Category: افغانستان

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت کو گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل تشکیل پا سکے۔

اندراب ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا دائرہ کار پنجشیر اور بدخشاں کے علاوہ کابل اور قندھار تک وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوات کے سرکاری ہسپتال میں بیڈز کی قلت پر مریض 200 روپے میں چارپائیاں کرائے پر لینے پر مجبور۔ خیبرپختونخوا کی بارہ سالہ حکمرانی کے تبدیلی، گڈ گورننس اور ریاستِ مدینہ کے دعوے زیرِ بحث۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملے مسلسل جاری ہیں۔

بدخشاں میں طالبان اور منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے درمیان لڑائی تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں طالبان ہیلی کاپٹروں سے فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

بدخشاں میں منحرف کمانڈر کی مسلح مزاحمت اور 25 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت نے طالبان حکومت کے لیے سنگین داخلی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

بدخشاں میں منحرف کمانڈر کی مسلح مزاحمت اور 25 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت نے طالبان حکومت کے لیے سنگین داخلی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

پنجشیر میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے حملے میں طالبان کا ایک رکن ہلاک، دو زخمی۔ بدخشاں میں طالبان اور جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 5 طالبان ارکان ہلاک، 16 زخمی اور 5 لاپتا۔

بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔

ہرات میں طالبان نے یوناما کے دو افغان ملازمین کو حراست میں لے کر اقوام متحدہ کو ان تک رسائی سے روک دیا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

افغانستان کے چار صوبوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی، طالبان اہلکار اور انٹیلی جنس دفاتر نشانہ بن گئے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین اور زن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل کے 231 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

قندھار کے عینو مینہ ٹاؤن شپ میں یونائیٹڈ فرنٹ کے حملے کے نتیجے میں طالبان کی اخلاقی پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

افغانستان میں طالبان کی پانچ سالہ حکمرانی کے بعد مسلح مزاحمت بدخشاں، پنجشیر، قندھار اور ہلمند سمیت مختلف صوبوں تک پھیل گئی ہے۔

افغانستان کے صوبہ لوگر میں ایک خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ بیس سالہ جنگ میں جس طالبان کی انہوں نے مدد کی، آج انہی نے ان کا گھر مسمار کر دیا ہے۔