روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
باجوڑ کے دمانگی کیمپ پر ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے میں ملوث دوسرے خودکش حملہ آور کی شناخت بھی ایک افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے، جو ماضی میں افغان طالبان کا حصہ رہ چکا ہے۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے فتنہ الخوارج کے کمانڈر کے اعتراف نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی افغان صوبہ کنڑ میں موجود ٹھکانوں سے کنٹرول کی جا رہی ہے، جس سے طالبان کے انکار پر مبنی مؤقف پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق مقتولین میں سے ایک کی عمر 19 سال اور دوسرے کی تقریباً 35 سال بتائی جاتی ہے۔ ان لاشوں کو سب سے پہلے علاقے کے رہائشیوں نے دیکھا جس کے بعد مقامی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا، تاہم ابھی تک قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ٹی ٹی پی سواتی گروپ کے کمانڈر کی رہائش گاہ پر ہونے والے دھماکے میں 5 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ طالبان نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ طالبان کی انٹیلی جنس نے طلوع نیوز کے دو اہم صحافیوں اور مقامی ایجنسی کے جاوید نیازی سمیت 8 صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔
اس کارروائی میں مارا جانے والا واعظ احمد ولد غلام محمد، دراصل افغان شہری اور صوبہ وردک کے ضلع چک کے گاؤں بمبئی کا رہائشی تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان نژاد شدت پسند براہِ راست ملوث ہیں، جو سرحد پار سے آکر یہاں بدامنی پھیلاتے ہیں۔