خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
افغانستان میں طالبان سے وابستہ علماء کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں کو 'جہاد' اور 'فرضِ عین' قرار دیے جانے کے بعد خطے میں نظریاتی اور عسکری کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو سرحد پار دہشت گردی کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے
پاک افغان سرحد پر صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب پاکستانی طیاروں نے ننگرہار میں طالبان کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طالبان نے طورخم اور نوشکی سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں
افغانستان کے صوبہ قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں لغمان، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے ان علاقوں میں طالبان کے عسکری مراکز اور بارڈر بٹالینز پر بمباری کی ہے، جس سے سرحدی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے
غیر ملکی خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کابل کے مخصوص مقامات پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کاروائیوں کے حوالے سے تاحال کسی بھی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ان دعووں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔