ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔
اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے آپریشنل تال میل کو بڑھانا ہے۔
چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ماہ چین کا اہم دورہ متوقع ہے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت، ٹیکنالوجی کے شعبے اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
افغان طالبان نے لوگر تانبا منصوبے میں تاخیر پر چینی کمپنیوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کابل دھماکے کے بعد چینی باشندوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس تجارتی کامیابی کی بنیادی وجہ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت فضائی تنازع کے دوران ’جے ٹین سی لڑاکا طیاروں کی بہترین کارکردگی ہے۔ پاک فضائیہ نے ان سنگل انجن ملٹی رول طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے جدید ترین رافیل اور دیگر طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ چین کے ان صوبوں پر مرکوز ہے جو صنعتی، زرعی اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر زرداری کی جانب سے ہونان اور ہینان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ تعاون کو صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ صوبائی اور علاقائی سطح پر بھی اشتراکِ عمل کا خواہاں ہے۔
ایران میں چینی سفارت خانے نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام چینی شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کا دوسرا ہنگامی نوٹس جاری کر دیا ہے، جس سے خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔
چین نے امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز ’ایم وی توسکا‘ کو قبضے میں لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو نازک مرحلے پر قرار دے دیا ہے۔