Category: سفارتکاری

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

صدر آصف زرداری نے دورہ چین کے دوران صوبہ حنان کی قیادت سے ملاقات میں زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور دیا اور چینی حکام کو سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

صدر آصف علی زرداری آج سے چین کے سات روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ سی پیک اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی 'اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ' طے پانے کا امکان؛ پاکستانی افواج کی قطری فوجی اڈوں پر تعیناتی اور قطر کی جانب سے 2 ارب ڈالر کی مالی امداد متوقع ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔

ایران کی جانب سے آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کرنے والے وفد یا اس کی قیادت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

۔پاکستان کا کردار ایک منظم اور ادارہ جاتی حکمت عملی کے تحت سامنے آیا ہے جس میں سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کام کیا، اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن پسند اور موثر ثالث کے طور پر متعارف کروایا۔

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس؛ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کو ناگزیر قرار دے دیا۔