Category: سفارتکاری

ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کے نئے آڈیو پیغام میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہے۔

ازبک صحافیوں نے پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات، فضائی روابط اور معاشی تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام پر تفصیلی مشاورت کرنے پر اتفاق

قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مردف القاشوطی اس سے قبل کابل میں قطری سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

زلمے خلیل زاد کا بیان دراصل ان کی دیرینہ پاکستان دشمنی اور ذاتی تعصب کا مظہر ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کا حالیہ بیان ذاتی انتقام اور تعصب سے لبریز ہے، جو ایک بار پھر ان کے ’’منتخب غصے‘‘ اور منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس پیچیدہ مسئلے کا حل بات چیت اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر کنٹرول کے ذریعے ممکن ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیان کو مسترد کرتا ہے جو انھوں نے انڈیا میں دیے۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق طاہر حسین اندرابی بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں بطور اضافی سیکرٹری کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ پاکستان نیشنل اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات میں قیامِ امن کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں

وزارت کے مطابق یہ جنگ بندی طالبان کی درخواست پر طے پائی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔