ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں بگرام ایئربیس کے اطراف سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ اور بعض تکنیکی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے ایئربیس کی ممکنہ بحالی کی تیاریوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
زشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان میں مجموعی طور پر سولہ بڑی مسلح کارروائیاں رپورٹ کی گئی ہیں، جو طالبان حکومت کے سکیورٹی کنٹرول اور 'مکمل امن' کے دعووں کو شدید چیلنج کرتی ہیں
واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔
ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج صرف ایک عارضی تحریک ہیں یا مستقل سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کریں گے؟ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جبر ہمیشہ رد عمل کو جنم دیتا ہے، اور جب معیشت تباہ ہو، روزگار ختم ہو، اور انصاف کھو جائے، تو لوگ اپنے نظام کو بدلے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس اعتبار سے ایران میں جو صورتحال ابھر رہی ہے، وہ محض حکومت کے خلاف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا مطالبہ ہے ایک رجیم چینج جو شاید دیر یا جلد حقیقت بنے۔
گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔
دوحہ معاہدے پر حقیقی عملدرآمد کا تقاضا محض تقاریر یا بیانات نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کا خاتمہ، قیادت کی گرفتاری، تربیتی نیٹ ورکس کی بندش اور علاقائی انٹیلی جنس تعاون شامل ہے۔ جب تک یہ عملی اقدامات سامنے نہیں آتے، تب تک دوحہ معاہدے سے وابستگی کے دعوے سیاسی پیغام رسانی تو ہو سکتے ہیں، مؤثر پالیسی نہیں۔
ایران کا موجودہ بحران صرف ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشی ناکامی اور سیاسی جمود مل کر کسی بھی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت نے عوامی خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ احتجاج مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف حکومتی اتھارٹی بلکہ ملک کے مجموعی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوں گے۔
نیا سال پاکستان کے لیے محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی، نئے عزم اور بہتر مستقبل کا موقع ہے۔ 2025 کی پاک بھارت کشیدگی نے قوم کو متحد کیا اور واضح کیا کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد سے وابستہ ہے
اقوامِ متحدہ کی سولہویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت شدید مرکزیت، سخت نظریاتی کنٹرول اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہے۔ امیرالمومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ تمام فیصلوں کا واحد منبع ہیں اور قندھار حکومت کا اصل سیاسی مرکز بن چکا ہے، جبکہ صوبائی علماء کونسلیں نظریاتی نگرانی کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں
یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط حلیف بن کر ابھرا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ دنیا اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی کردار کو دیکھتی ہے، اور اگر پاکستان اسی سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو بھارتی پروپیگنڈا مزید کمزور اور پاکستان کا عالمی کردار مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔
یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات اپنے تعلقات کو محض رسمی دوستی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے ایک جامع، طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ دن محض خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی دن ہے۔
قائداعظمؒ کا پاکستان اب بھی ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ ضرورت صرف اس عزم کی ہے جو انہوں نے کیا تھا، اور اس وفاداری کی جو ہم ان کے نظریے کے ساتھ نبھا سکیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔