ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران کے علاقوں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرے ہیں۔ مغربی تہران میں موجود نمائندوں نے دو زور دار دھماکوں کی آواز سننے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شہر کے وسطی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی حالیہ پریس کانفرنس میں کیے گئے دعوے بین الاقوامی رپورٹس اور زمینی حقائق سے متصادم ہیں، جہاں افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے
پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے
اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی کاروائیاں، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی، اور عالمی سکوت کے پس منظر میں پاکستان کا حقِ دفاع، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق مکمل طور پر جائز اور درست ہے
سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
بھارت نے امریکی دباؤ پر ایران سے بے وفائی کرتے ہوئے تین آئل ٹینکرز ضبط کر لیے ہیں۔ چابہار کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے اور ایران میں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کی گرفتاری نے دہلی کی 'موقع پرست' سیاست اور تہران سے غداری کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے
پلوامہ واقعہ مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے اور 2019 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کا ایک مہرہ ثابت ہوا۔ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35-اے پر شب خون مارا، جس کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کر کے اسے وفاق میں ضم کرنا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑنا تھا
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی فوری مبارکباد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نئی دہلی بنگلہ دیش میں کسی بھی سیاسی تبدیلی کے باوجود اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کے لیے بنگلہ دیش محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔