یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
افغانستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے کا مطلب ہے کہ افغانستان کی تجارت بڑی حد تک اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہوگی اور تاجروں کو معاشی قتل عام ہوگا۔
صرف 2025 میں اب تک تقریباً 4300 سے زائد حملے کیے گئے جن میں 1000 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ تاہم اب اسلام آباد جیسے محفوظ شہر میں دھماکے نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
اس تمام عرصے میں پاکستان نے فلسطینیوں کو تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے نہ تو اس انسانی اور اسلامی جذبے کی کھلے عام تعریف کی اور نہ ہی اس طرزِ عمل کو اپنایا۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ اقتصادی باہمی انحصار اب امن کی ضمانت نہیں رہا۔ یہ ایک نئے دور کی نشاندہی ہے جہاں تجارت، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا طاقت کے ہتھیار بن چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔
ریاست مخالف سوچ کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا دراصل خود ریاست کی کمزوری ہے۔ بلوچستان کے امن اور پاکستان کے استحکام کے لیے قانونی اور فکری دونوں محاذوں پر ایک مضبوط جواب ناگزیر ہے۔