اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی نے بھارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس پر وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے
سندھ طاس معاہدے پر بھارتی ہٹ دھرمی نے پاکستان کے آبی حقوق اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریائی بہاؤ میں مداخلت سے زراعت، صحتِ عامہ اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دے رہا ہے کہ جو خود نہ صرف ایک ناجائز ریاست ہے بلکہ دنیا بھر میں بے گناہ لاکھوں انسانوں کی قاتل ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
کمیشن نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اسلحے کی فروخت اور تجارتی روابط کو مذہبی آزادی کی صورتحال سے مشروط کرے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ قوانین کے تحت پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔