وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔
کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپریشنز کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، شناختی کارڈز اور ٹی ٹی پی کا کارڈ بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ علاقے میں مزید سہولت کاروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی ضابطوں کی پاسداری اور واضح رہنما اصول نہ صرف عوامی اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ معاشرے کو اطلاعاتی آلودگی سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیامِ امن اور رائے سازی میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دوروں کا مقصد وفاقی اکائیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، جمہوری رویّوں کو فروغ دینا اور سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کی قیادت اور سیاسی قوتوں سے رابطہ کسی بھی طور غیر آئینی یا غیر معمولی عمل نہیں۔
واضح رہے کہ لکی مروت اور گردونواح میں حالیہ عرصے کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں طالبان سے منسلک عناصر اور مقامی قبائل کے درمیان حملوں اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہو گئی ہے، جسے آئی جی پنجاب کو بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے
بدھ کے روز جی ایچ کیو میں بلوچستان سے متعلق 18ویں نیشنل ورکشاپ سے خطاب میں انہوں نے صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی اور قومی مفادات میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی