خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی کا نام نہاد بیانیہ اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو کر دفن ہو چکا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔
ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرتے ہوئے تہران سے معاہدے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دیا ہے۔
دوستم نے ویڈیو بیان میں شمالی افغانستان کے نوجوانوں کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بروقت اقدام نہ کیا گیا تو خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔
چارسدہ میں اتمانزئی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے؛ واقعے کے خلاف عوام کا شدید احتجاج، تنگی روڈ بلاک۔
ملا ہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (النساء: 59) کو بنیاد بنا کر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے اطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔
انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔