خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران کے علاقوں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرے ہیں۔ مغربی تہران میں موجود نمائندوں نے دو زور دار دھماکوں کی آواز سننے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شہر کے وسطی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔
طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔
یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23 ہزار کے قریب عالمی دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جبکہ داعش اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں علاقائی استحکام کے لیے بدستور سنگین خطرہ قرار دی گئی ہیں
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔