Category: تازہ ترین

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

بھارتی صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں بھاری کمیشن کی نذر ہونے والے فنڈز کو بے نقاب کر دیا۔

چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے 12 بیک وقت حملے ناکام بنائے، بھارتی میڈیا کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟

اس کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا؛ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی۔ ضربِ عضب اور پاکستانی فوج کی سٹرائیکس کو سامراجی جارحیت کہا گیا، جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔

قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر" بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔

سوال کے راستے میں کلٹ آ جائے تو مسافت طویل تو ہو سکتی ہے ، سفر ختم نہیں ہوتا۔ سوال منزل پر پہنچا اور اس نے ذہنوں پر دستک دی کہ اگر امریکہ ہی انہیں نکالنے کی سازش میں ملوث تھا تو اوورسیز انقلابی جن کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے ، ایک آدھ مظاہرہ واشنگٹن یا نیو یارک میں امریکہ کے خلاف کیوں نہیں کر لیتے؟ ہیجان پیدا اکرنے کے لیے کیا پاکستان ہی آسان شکار نظر آتا ہے۔

شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قائدین پاکستان نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور الگ وطن بنا دیا ورنہ پاکستان کے پچیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستان میں بری طرح پس رہے ہوتے۔ سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی جیسے لیڈروں نے نظریہ پاکستان اور قائداعظم کے ویژن کو عملاً درست ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو معمولی سا شک بھی تھا تو پچھلے چند برسوں میں وہ دور ہوگیا۔