Category: مشرق وسطیٰ

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

ایرانی وفد کے تہران واپس جانے والے نمائندے بھی اہم امور پر مشاورت کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات؛ امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن پر اہم مشاورت۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کا اسرائیلی انخلاء تک کسی بھی معاہدے سے انکار؛ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تیزی، 6 افراد جاں بحق۔

آمد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے بروقت دوروں کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ علاقائی صورتحال پر اہم مشاورت کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد امن مذاکرات' کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پاکستان کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز رواں ہفتے جمعہ تک ممکن ہے، جس سے خطے میں تناؤ کی کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔