Category: اہم ترین

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

خیبر کے علاقے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں حیات آباد ٹول پلازہ کی ناکہ بندی اور دیگر حملوں میں ملوث خالد عمر غازی سمیت چار خوارج ہلاک ہوگئے۔

سندھ کا سالانہ مالی حجم 2008-09 کے 267.7 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 3,562 ارب روپے ہوگیا، مگر تعلیم اور صحت کے اعداد کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو ایک اور جھٹکا لگا ہے، جبکہ 27 ستمبر کے مارچ کا اعلان بھی سوالات کی زد میں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں داعش خراسان کے 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں اہم کمانڈر عمران عرف ابو بکر بھی شامل ہے۔

المخا پر حوثیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اس لیے باب المندب کی سمندری گزرگاہ پر سکیورٹی خطرات بڑھ چکے ہیں۔

افغانستان میں مسلح مزاحمت نے اچانک شدت اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران چھ اہم صوبوں میں طالبان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس مراکز پر پے در پے حملے کیے گئے ہیں۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس یمن تنازع پر منعقد ہوا ہے۔ پاکستان نے سعودی خودمختاری اور حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔