Category: اہم ترین

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

افغان فریڈم فرنٹ نے نورستان کے ضلع دوآب میں طالبان کی سکیورٹی چوکی پر گوریلا حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے چار صوبوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی، طالبان اہلکار اور انٹیلی جنس دفاتر نشانہ بن گئے۔

ایک مقامی پاکستانی پولیس اہلکار محمد صادق کا کہنا تھا کہ فائرنگ افغانستان کی جانب سے شروع ہوئی، جس پر پاکستانی دستوں نے جوابی فائرنگ کی۔ سرحدی گزرگاہ کے قریب یہ واقعہ پیش آیا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی راستہ بھی ہے۔

یفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نے کہا ہے کہ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والا دوسروں کو غدار کہتا پھر رہا ہے، ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں، اس شخص کی سیاست ختم ہوچکی۔

پاکستانی ماہرین نے واضح کیا کہ داخلی معاملات پر بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں ملکی آئین و قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔

وزیر اعظم نے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی مدت ملازمت بھی دو سال کے اضافی عرصے کے لیے بڑھا دی ہے۔ ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت مارچ 2026 میں مکمل ہو رہی تھی اور اب اسے مارچ 2028 تک بڑھایا گیا ہے۔

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔

پولیس کے مطابق اہلکار ایک پارک میں معمول کی چیکنگ کر رہے تھے جہاں انہیں رات گئے ایک سفید ٹویوٹا ٹیکوما مشکوک حالت میں کھڑی ملی۔ ڈرائیور نے گاڑی سے باہر آنے سے انکار کیا اور مزاحمت کی، جس کے بعد اسے حراست میں لیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر کرغزستان کے صدر اپنی کابینہ کے سینئر وزرا، اعلیٰ حکام اور کاروباری رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچے۔

یہ صورتحال اس بیانیے کے بالکل برعکس ہے جو افغان سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بعض سرگرم گروہ دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کے بارے میں پھیلاتے ہیں، جہاں وہ افغان مہاجرین کی بغیر تصدیق اندھا دھند قبولیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور میزبان ریاستوں کو ’’اسلامی برادری‘‘ یا ’’اتحادی فرض‘‘ کا طعنہ دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 14 ستمبر 2019 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے، حمزہ بن لادن، ایک امریکی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قربانیاں دے رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جس کی متعدد بار شواہد پیش کیے جا چکے ہیں۔