ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
ملتان میں رحمان بابا ایکسپریس کی 15 بوگیاں پٹری سے اترنے کے حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو آپریشن مکمل، لاپتا بچی کی تلاش جاری ہے۔
کوئٹہ کے نواں کلی علاقے کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد شہید ہوئے۔
محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کو قیادت کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں پانچ اضلاع میں چھ ماہ تک سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا۔
اقرار الحسن کی گرفتاری کے بعد اہلیہ فرح یوسف نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کی، بیٹے پہلاج نے بھی رہائی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی۔
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور افغان طالبان سے تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔
صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سمری پر دستخط کردیے، گورنر بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو اس اقدام کی سفارش کرنے کی تجویز دی تھی۔