وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے پہلے دور میں امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر جامع امن معاہدے کے روڈ میپ اور ہائی لیول نگرانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا۔
اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
صدرِ پاکستان نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانے والے کوہاٹ کے بہادر شہری لیاقت شہید کے لیے ملک کے دوسرے بڑے سول اعزاز ستارۂ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی 'معرکۂ حق' اور 'غضب للحق' جیسے آپریشنز میں نمایاں کامیابیوں کے بعد بھارت اور اس کے پراکسی ماسٹر افغانستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔
بنوں کے علاقے فتخہ خیل میں سکیورٹی فورسز کی اہم تنصیبات پر کثیر الجہتی حملے کے نتیجے میں دفاعی حصار منہدم ہوگیا۔ حملے کی ماسٹر مائنڈ ٹی ٹی پی کمانڈر عبدالعزیز نے کی، جو حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔
اسلام آباد میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام؛ سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے (فتنہ الہندستان) کے زیرِ اثر کم عمر لڑکی خیرالنساء کو بازیاب کرا کر اسے والد کے حوالے کر دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردوں کے خواتین مخالف نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
اسلام آباد میں خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا؛ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق خاتون کو والد کے قتل کی دھمکی دے کر حملے پر مجبور کیا گیا تھا۔
مقامی افراد نے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے دفاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور معاونت کر سکیں۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے کے لیے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران 12 اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 3 اہلکاروں کو زندہ سلامت نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔