اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔
اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ علاقے میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے، جسے پاکستان کے کنٹرول میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔