Category: جنوبی ایشیا

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

پرنس رحیم آغا خان پنجم کے 21 سے 25 مئی گلگت بلتستان دورے کی تیاریاں جاری ہیں، سکیورٹی اور دیگر انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ میڈیا اور ڈیجیٹل ہینڈلز کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے منظم پروپیگنڈا مہم کا انکشاف ہوا ہے۔

حاجی خلیل حقانی نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران اتنے شہداء کی قربانیاں دیں لیکن ان لرزہ خیز واقعات نے بھی ہمیں اتنا مایوس اور پریشان نہیں کیا جتنا سعید خوستی کی بے شرمی اور شہوت پرستی کے کارناموں نے کیا ہے۔

بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طالبان نے عسکری تنصیبات شہری علاقوں میں چھپا رکھی ہیں جبکہ یو این اے ایم اے کی رپورٹنگ یکطرفہ ہے۔

دہشت گردی کی سرپرستی: کابل آج ٹی ٹی پی، القاعدہ اور بی ایل اے سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور اسلحہ پرمٹس تک میسر ہیں۔

بی بی سی اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اس واقعے کو صرف شہری نقصان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم زمینی شواہد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر چھپانے کی خطرناک حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

حبیب حکمتیار نے تصدیق کر دی ہے کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ امارتِ اسلامی کی پناہ میں ہیں اور افغان طالبان کے ارکان بھی پاکستان کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ سفارتکاری، مؤثر ڈیٹرنس، بحران مینجمنٹ اور مذاکراتی عمل ناگزیر ہیں۔ مقررین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف “معرکۂ حق” کے مختلف پہلوؤں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ نئی نسل، پالیسی سازوں، محققین اور تزویراتی امور کے طلبہ کے لیے بھی ایک اہم تحقیقی حوالہ ثابت ہوگی۔