یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اتوار کی شام تک جواب نہ دیا گیا تو غزہ پر ایسا قیامت خیز حملہ کیا جائے گا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستانی قیادت نے منصوبے کی 100 فیصد تائید کی ہے"۔
امریکا 2018 میں اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ ہو گیا تھا جس کے بعد ایران نے بتدریج اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔
انھوں نے کہا کہ آج 2025 میں ہزاروں بے گناہ انسان صرف فلسطینی ہونے کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جس طرح 80 سال قبل لاکھوں لوگ صرف یہودی ہونے کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے، یہ ایک انسانی بحران ہے اور ایک عالمی بحران ہے۔