طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔
شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔
موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔
عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔
مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں
ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔
اکستان کی وزارت خارجہ نےصدر ٹرمپ کے امن منصوبے پرحماس کے ردعمل کا خیرمقدم کیا ہے،ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ یہ ردعمل جنگ بندی اورخونریزی کے خاتمے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور مذہبی شخصیات نے بھی اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کی اور گرفتار افراد کی غیر مشروط رہائی کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیتن یاہو نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیلی حملے میں قطری گارڈ جاں بحق ہوا،ٹرمپ نے کال کے دوران اسرائیل اور قطر کے تعلقات کو مثبت سمت میں لانے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی شہادت کا تذکرہ کیا، جو اس وقت شہید ہوئی جب اس کا خاندان غزہ سے جا رہا تھا، ہند رجب کی کہانی اس جنگ کے سب سے ہولناک سانحات میں سے ایک بن چکی ہے۔
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطہ مسلسل کشیدگی اور خطرات کی زد میں رہے گا