اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔
افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔
اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔
ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرتے ہوئے تہران سے معاہدے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دیا ہے۔
دوستم نے ویڈیو بیان میں شمالی افغانستان کے نوجوانوں کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بروقت اقدام نہ کیا گیا تو خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔
چارسدہ میں اتمانزئی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے؛ واقعے کے خلاف عوام کا شدید احتجاج، تنگی روڈ بلاک۔
ملا ہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (النساء: 59) کو بنیاد بنا کر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے اطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔
انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔
پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن کی تدفین اور نمازِ جنازہ افغان طالبان کی نگرانی میں ادا کی گئی، جو دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔