سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے
طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔
امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے شیڈول پر صورتحال واضح نہیں؛ عوامی تردید کے باوجود ایرانی وفد کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع، سفارتی ذرائع کا دعویٰ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی حتمی معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو پہلے امریکا واپس بلایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اب جے ڈی وینس نہ صرف اسلام آباد جائیں گے بلکہ وہی امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق “صورتحال بدل گئی ہے”، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔
اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسے بڑے ملک سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تاثر پیش کرتا رہا ہے۔