Category: مشرق وسطی

یہ آبدوزیں جارحیت کو روکنے اور بحیرہ عرب میں اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

بلوچستان میں نمائندگی کے بحران کا دعویٰ صرف ایک سیاسی نعرہ ہے۔ جو لوگ انتخابات میں ہار گئے ہیں، وہ ہمیشہ ایسا ہی شور مچاتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔

جمی کمل نے خاتونِ اول کو مذاق میں متوقع بیوہ کہا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ اس بیان پر ایوانِ صدر کی جانب سے جمی کمل کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

حیدرآباد کے معاذ صداقت چونسٹھ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ عثمان خان نے پینتیس گیندوں پر چونسٹھ رنز کی اننگز کھیلی۔ صائم ایوب نے ناقابلِ شکست پندرہ رنز بنائے۔

بسیں روزانہ صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک چلیں گی اور مسافروں کے انتظار کا وقت کم کرنے کے لیے ہر پینتالیس منٹ بعد روانہ ہوں گی۔

عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی بقا کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

اگر ایران نے مقررہ ڈیڈ لائن تک وفد بھیجنے کا اعلان نہ کیا تو چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔

پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں شدید تعطل؛ صدر ٹرمپ کے 'معاہدہ قریب ہے' کے دعوؤں کو تہران نے مسترد کر دیا، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر فریقین کے مؤقف میں تضاد برقرار۔

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔