سعودی عسکری اتحاد نے باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی تنظیم کی بحری ناکابندی کی دھمکیوں کا سخت عسکری جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
حماس نے خلیل الحیہ کو نیا سربراہ منتخب کیا، وہ شہید یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ہنیہ، سنوار کے بعد اب یہ علم خلیل الحیہ کے ہاتھ میں، شہدا کی جماعت کا سفر جاری۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی زمینی افواج جدید ساز و سامان اور مسلسل تربیت کی بدولت کسی بھی امریکی دراندازی کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے وعدوں کی خلاف ورزی، اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کو پناہ گاہوں اور ماہانہ لاکھوں افغانی کی مالی امداد کی فراہمی کے انکشافات۔
واجبات کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔ سالانہ واجبات جمع نہ کرانے کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہا ہے۔
افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کابل میں ایک اجلاس کے دوران ٹی ٹی پی کو وارننگ جاری کی ہے اور اس کے تقریباً 100 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ پاکستان نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا،کیونکہ ماضی میں کئی بار طالبان کے یہ دعوے جھوٹ ثابت ہوئے ہیں
افغانستان کی معروف سیاسی شخصیات عبدالمنان شیوۂ شرق اور مجیب الرحمٰن رحیمی کا ڈیورنڈ لائن پر تاریخی اعتراف؛ پاکستان کو موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنے کا اعلان، محمد محقق کے مؤقف کی تائید اور "پشتونستان" کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔
ان گرفتاریوں کا مقصد چین کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کو اس بار کابل کی پل چرخی جیل منتقل کرنے کے بجائے افغان انٹیلی جنس ادارے ’جی ڈی آئی‘ کے زیر انتظام خصوصی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے
دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں شامل 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزرائے اعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں۔
افغانستان کے صوبہ نیمروز میں مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات، طالبان حکام کی جانب سے ڈرون پر فائرنگ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پاک افغان تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن گیا؛ پاکستان نے افغان میڈیا کے جارحانہ کردار کی تعریف کو 'پراکسی وار' کا اعتراف قرار دے دیا، ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات۔
وائرل ویڈیو میں مذکورہ شخص ننگرہار میں ایک سکیورٹی چوکی کے سامنے کھڑے ہو کر علاقے کی صورتحال دکھاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ویڈیو میں وہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طالبان حکومت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی 'امارات' شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے 'غاصبانہ قبضہ' قرار دے دیا۔