افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے طالبان کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔
افغانستان میں سقوطِ کابل کے بعد 2021 سے 2026 تک کے پانچ برسوں میں عسکری منظرنامہ بدل چکا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مسلح مزاحمت تاحال جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔
افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیر دفاع حمیداللہ اخوندزادہ کے قافلے پر حملہ، افغان فریڈم فرنٹ کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ۔ پنجشیر، بدخشاں کے بعد مزاحمت مزید صوبوں تک پھیل گئی۔
سرپل میں نامعلوم افراد کے حملے میں طالبان انٹیلی جنس شعبہ 08 کے سربراہ مولوی امراللہ سلطانی ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ بدخشان، نیمروز، زیبک اور پنجشیر میں ابھرتی مزاحمت کی کڑی ہے۔
بدخشاں میں طالبان حکومت کے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح حملے میں ہلاک؛ سکیورٹی صورتحال، طالبان کی داخلی گرفت اور عوامی رویوں پر سنگین سوالات۔