گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر سکیورٹی فورسز کا ساتھ نہ دینے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔
بروری روڈ پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں فائرنگ بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او قادر قمبرانی زخمی ہو گئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ تمام حقائق اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ محض انسانی حقوق کی کارکن نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو مضبوط کرنے والی ایک سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ بھارت اور اسرائیل کے اسٹریٹیجک اتحاد کا مظہر ہو سکتا ہے جس کا مقصد ایران و پاکستان کی علاقائی پوزیشن کو کمزور کرنا اور بلوچ علیحدگی پسند تحریکوں کو جیوپولیٹیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔