Category: وسطی ایشیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

این آر ایف نے حسیب پنجشیری کے بعد کمانڈر مختار کو نیا قائد مقرر کردیا۔ تنظیم نے مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

امریکی انکار کے بعد افغان طالبان کو سنگین سفارتی اور معاشی شکست، واشنگٹن نے معدنیات میں سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کر دی۔

پیوٹن نے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر بڑے حملوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

وزیراعظم شہباز شریف بشکیک پہنچ گئے، جہاں وہ سربراہی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، پاکستان اجلاس کے اختتام پر پہلی بار تنظیم کی صدارت سنبھالے گا۔

لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر پی سی بی کا اسکائی اسپورٹس اور ای سی بی سے شدید احتجاج، کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کا مطالبہ۔

طالبان کے بدخشاں پولیس چیف نے پاکستان پر تربیتی مراکز کا الزام لگایا، تاہم دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب سے 273 افراد ہلاک اور 1500 سے زائد لاپتہ ہوگئے، جن میں سینکڑوں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔