Category: سفارتکاری

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے پاکستان اور اٹلی کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور شاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر تعزیت کی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔

پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستانی زرعی ماہرین کا وفد جلد سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔

آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، پاکستان ایک سال کے لیے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالے گا۔

سعودی کاروباری وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، زراعت، توانائی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال۔

بنگلہ دیش نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی۔

وفاقی وزیرِ قانون اور بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کی ملاقات میں قانونی اصلاحات اور دوطرفہ روابط مضبوط بنانے پر اتفاق۔

معروف سعودی عالمِ دین شیخ عاصم الحکیم نے پاکستان کے جلد سپر پاور بننے کی پیشگوئی کر دی، ان کے بیان سے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت پر بحث چھڑ گئی۔

امریکہ کی اقتصادی دھمکی کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا اہم دورۂ ایران انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔