ضلع کرم کے علاقے تھادو اوبو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق بھارت افغان روابط اور عسکریت پسندی بلوچستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی اور پاکستان کی جیو اکنامک ترقی میں رکاوٹ ہیں۔
اسلام آباد میں آٹھویں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد؛ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ صدارت کی اور دوطرفہ شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔
معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم الماشی کا انکشاف؛ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے مسلح حملوں میں خواتین کا استعمال تنظیم کی شدید مایوسی اور آپریشنل کمزوری کی علامت ہے۔
سفارتی ذرائع نے کابل میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متوقع مذاکرات کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔
مئی 1998 کا یومِ تکبیر اور مئی 2025 کا معرکۂ حق (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کے دو ایسے درخشاں ابواب ہیں جنہوں نے نہ صرف ازلی دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا، بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی محور کے طور پر بھی منوایا۔
حکومت کی جانب سے تاریخی معاشی ریلیف اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کال اور مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ عوامی مفاد نہیں بلکہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
باجوڑ اور شیخ ادریس قتل کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔
بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم "تعمیری مسابقت" کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
کابل اور دہلی کے درمیان 46 ملین ڈالر کا حالیہ معاہدہ محض تجارتی نہیں بلکہ ایک تزویراتی چال ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھانا اور افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کرنا ہے۔
بھارت اس وقت ایک سوچی سمجھی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ معاہدے کی اہم شقوں کو توڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اس کیس کو مستقل عدالتِ ثالثی میں لے جا کر ایک درست قدم اٹھایا ہے، تاہم بھارت کا اس عالمی عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار اس کی بین الاقوامی لاقانونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کی نئی لکیر؛ فتح تھری سپرسونک کروز میزائل کی رونمائی نے بھارت کے براہموس میزائل کے سحر کو توڑ دیا ہے۔ ریم جیٹ ٹیکنالوجی اور آواز سے تیز رفتار کے حامل اس میزائل نے پاکستان کی 'راکٹ فورس' کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے، جس سے خطے میں روایتی ڈیٹرنس اور پریسیژن اسٹرائیک کی صلاحیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔