افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت کو گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل تشکیل پا سکے۔
سوات کے سرکاری ہسپتال میں بیڈز کی قلت پر مریض 200 روپے میں چارپائیاں کرائے پر لینے پر مجبور۔ خیبرپختونخوا کی بارہ سالہ حکمرانی کے تبدیلی، گڈ گورننس اور ریاستِ مدینہ کے دعوے زیرِ بحث۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حملے مسلسل جاری ہیں۔
فتنہ الخوارج نے 2007 سے اب تک ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور علما کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی قانون کے تحت کالعدم اس تنظیم کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز آئینی اختیار کے تحت کیے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔
نور ولی محسود کا قرآنی آیات کو مسخ کر کے فورسز پر حملوں کی ترغیب دینا دینی اقدار اور علمی اصولوں کے منافی ہے۔ مسلمان ریاست اور فورسز کے خلاف مسلح بغاوت جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔
پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع کے قافلے پر حملے اور اس میں ٹی ٹی پئ رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے تحفظات درست ثابت کر دیے ہیں، جبکہ ابھرتی مزاحمت سے طالبان کی حکومتی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔
بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔