"> اداریہ Archives - HTN Urdu

Category: اداریہ

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں معدنی معاہدوں کی بدعنوانی اور طالبان دھڑوں کی کشمکش نے بدخشاں اور تخار میں بدامنی بڑھا دی ہے۔

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مہمند کی معدنیات پر پی ٹی آئی وزراء کے قبضے اور پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈے پر مقامی عوام نے پی ٹی آئی کا کچا چٹھا کھول دیا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے وفاق کا آئینی اقدام ہے۔

روس نے افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی واپسی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کابل کے ساتھ سکیورٹی اور معاشی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کا نا حق خون بہانا اور تکفیری نظریات کے تحت دہشت گردی کرنا شدید ترین جرم اور شرک کے بعد سب سے بڑا ظلم ہے۔ قرآنی نصوص اور احادیث سے ثابت ہے کہ مومن کی جان کی حرمت خانہ کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔

اسلام آباد میں تعلیمی فراڈ کا شکار ہونے والی ذہین طالبہ لائبہ کی خودکشی کا دلخراش واقعہ، جہاں جعلی ایجنٹوں کی ہوس نے ایک اور ہونہار طالب علم کا مستقبل اور پورا خاندان اجاڑ دیا۔

واٹس ایپ گروپس کی لڑائیاں اور ایک دوسرے کو ایکسپوز کرنے کی دھمکیاں ثابت کرتی ہیں کہ جدوجہد اب بانی کی رہائی یا عوامی مسائل کی نہیں، بلکہ محض اقتدار کے بٹوارے اور ذاتی انا کی رہ گئی ہے۔

آٹھ اکتوبر 2005 کا سانحہ محض نوحہ خوانی کا دن نہیں بلکہ قومی احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ 21 برس بعد بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم آئندہ کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟

کرم آپریشن میں ہلاک دہشتگردوں کی افغان شناخت نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ہی ملتے ہیں۔ کابل کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیبر پختونخوا میں شہدا کے لیے ایمبولینسز کا فقدان جبکہ لانگ مارچ میں سرکاری گاڑیوں کی بھرمار نے حکومتی ترجیحات اور ہنگامی وسائل کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔