Category: اداریہ

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پی ٹی ایم کے جبری گمشدگیوں کے بیانیے پر سوالات، تنظیم پر را اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے الزامات بھی سامنے آگئے۔

ہیگ کی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا، بھارت نے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔

سندھ پولیس کی گاڑی کا کالعدم تنظیم کے زیرِ استعمال ہونا اور ریاست مخالف پرچم لہرانا سندھ حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

زمینی شکست کے بعد فتنۃ الخوارج کی جانب سے مبالغہ آمیز حملوں اور سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے جعلی دعوؤں کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ حقائق کے مطابق خوارج کے 50 فیصد دعوے جھوٹے اور ناقابلِ تصدیق ہیں۔

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں افغان خواتین اور بچیوں پر جنسی زیادتی، اجتماعی ریپ، جبری برہنگی اور تشدد کے خوفناک حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے عالمی برادری کے کردار پر سوال اٹھا دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں، 11 اگست 2026 کو اعجاز الحق اور کنٹریکٹر محمد زبیر کی گرفتاری نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کو ایک بار پھر عوام کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

کنڑ میں بھارتی یوٹیوبر کے دورے اور ٹی ٹی پی انٹیلی جنس سے رابطے نے افغان طالبان کی سرپرستی اور پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس سے اسلام آباد کا دیرینہ مؤقف حرف بحرف سچ ثابت ہو گیا ہے۔

طالبان اقتدار کے 5 سال مکمل ہونے پر بھی افغانستان معاشی بحران، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی تنہائی کا شکار ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل سوالیہ نشان ہے۔

فتنہ الخوارج نے 2007 سے اب تک ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور علما کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی قانون کے تحت کالعدم اس تنظیم کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز آئینی اختیار کے تحت کیے گئے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔