ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کو سفارتی عمل میں واحد باضابطہ ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں اسلام آباد کے کلیدی کردار کی تصدیق کی ہے۔
امریکی جریدے 'دی ہل' میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔
افغانستان کے صوبہ نیمروز میں مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات، طالبان حکام کی جانب سے ڈرون پر فائرنگ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بنوں میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا اہم رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختار خودکش بمبار سمیت ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت میں ملوث ماسٹر مائنڈ انجام کو پہنچ گیا۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون پولیس افسر کی شہادت؛ خضدار میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید، شوہر کے بعد اہلیہ نے بھی وطن پر جان قربان کر دی۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پاک افغان تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن گیا؛ پاکستان نے افغان میڈیا کے جارحانہ کردار کی تعریف کو 'پراکسی وار' کا اعتراف قرار دے دیا، ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات۔
افغانستان میں 'امارات' کے نام پر قائم نظام شریعت کے بنیادی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے متصادم؛ نسلی بالادستی اور مذہبی جبریت نے افغان معاشرے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔
دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔
امریکی جریدے 'واشنگٹن ٹائمز' نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
فن اور ثقافت کی اوٹ میں ریاستی قوانین کی پامالی اور قومی حمیت سے انحراف ناقابلِ قبول ہے۔ عدالتی احکامات اور ضوابط کی پاسداری ہر ادارے کا قانونی و اخلاقی فریضہ ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی پامالی محض ایک تکنیکی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور معیشت کے خلاف بھارت کی ایک سوچی سمجھی 'تزویراتی جنگ' ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت اور 'واٹر بم' پالیسی نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے
پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی ایسے وقت میں کی جب خطہ انتہائی پیچیدہ اور کٹھن حالات سے گزر رہا تھا، اور معمولی سی تزویراتی غلط فہمی کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ اسلام آباد کی اس سنجیدہ سفارتی کوشش نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی رسائی کے باعث مخالف فریقین کو ایک میز پر لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے
تیرہ اپریل 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ اور عصرِ حاضر میں فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت محض دو الگ واقعات نہیں، بلکہ ایک ہی استعماری سوچ کا تسلسل ہیں۔ برطانوی راج کے ’رولٹ ایکٹ‘ سے لے کر صیہونی ریاست کی ’انتظامی حراست‘ تک، جابروں نے ہمیشہ قانون کو نہتے عوام کی آواز دبانے اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے آلہ کار بنایا ہے
پاکستان کی تاریخی سفارتی فتح؛ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں نے امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے نکال کر میز پر بٹھا دیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کے ضامن کے طور پر ابھر کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے
متحدہ عرب امارات کے ڈیپازٹس کی واپسی کو 'سفارتی دوری' کا رنگ دینے والا حالیہ پراپیگنڈا درحقیقت پاک امارات تعلقات کی تزویراتی گہرائی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ یہ اقدام مالی دباؤ نہیں بلکہ پاکستان کی 'مالیاتی پختگی' اور معاشی وقار کا مظہر ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان اب اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے
خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔