اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
امریکی ایف بی آئی نے بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل کو ورمونٹ سے گرفتار کر لیا، جس پر قتل، اغوا، منشیات و اسلحہ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد ہیں۔
بلوچستان میں آپریشن شعبان کے تحت 129 دہشت گردوں کی ہلاکت عسکری کامیابی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے بیرونی فنڈنگ اور معصوم محنت کشوں کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا طے پانا اور 19 جون کو جنیوا میں پاکستانی میزبانی میں دستخطی تقریب کا انعقاد، عالمی سفارت کاری میں اسلام آباد کی بے مثال کامیابی اور خطے میں پائیدار امن کے نئے دور کا آغاز ہے۔
افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی نے جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک سنگین جیوپولیٹیکل بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کا حل مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں پنہاں ہے۔
افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔
مئی 1998 کا یومِ تکبیر اور مئی 2025 کا معرکۂ حق (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کے دو ایسے درخشاں ابواب ہیں جنہوں نے نہ صرف ازلی دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا، بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی محور کے طور پر بھی منوایا۔
حکومت کی جانب سے تاریخی معاشی ریلیف اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کال اور مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ عوامی مفاد نہیں بلکہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
باجوڑ اور شیخ ادریس قتل کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔