افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے والی خواتین فٹبالرز پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد فیفا کی اجازت سے بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں معدنی وسائل پر تنازع کے بعد طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی کمانڈروں میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس پر امیر ہیبت اللہ نے سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
کینیڈا میں بھارت سے جاری ریکارڈ امیگریشن اور ٹورنٹو جیسے شہروں میں تیزی سے بدلتی آبادیاتی صورتحال نے ملکی وسائل اور امیگریشن پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نیپال کے انناپورنا کنزرویشن ایریا میں سیاحوں کے کچرا پھیلانے پر مقامی افراد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں موقع پر صفائی کروائی، جس کے بعد سیاحتی آداب اور ماحولیاتی ضوابط پر بحث شروع ہو گئی۔
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی چوکی پر خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور تعاقب کے دوران 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
دفترِ خارجہ نے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو سنسنی خیز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق نور خان ایئربیس پر طیاروں کی موجودگی سفارتی عملے کی نقل و حمل کے لیے تھی۔
پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
بی ایل اے کے خلاف نئے پراکسی محاذ کی تشکیل کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم ہیں؛ ماہرین نے اسے انسدادِ دہشت گردی کی جاری کاروائیوں کی غلط تشریح قرار دے دیا۔
بھارتی سیلز نہ صرف خارجہ محاذ پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی مشکوک مہمات سے ہوشیار رہیں اور دشمن کے ڈیجیٹل آلہ کار بننے سے گریز کریں۔
اس جعلی پلیٹ فارم نے جھوٹی خبر پھیلائی ہے کہ صدرِ مملکت ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کیا گیا کہ فوج انہیں مستعفی ہونے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مخصوص مذموم مقاصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں