Category: خیبر اور بلوچستان

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کے قتل پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

ہنگو کے علاقوں بختو ٹاپ اور چمبہ گل میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلے میں 8 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔

سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 سالوں میں 15 ہزار سے زائد آپریشنز کے دوران 1557 دہشت گرد ہلاک اور 4487 گرفتار کیے گئے۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے، ہلاک شدگان میں متعدد افغان باشندے بھی شامل ہیں

پاکستان کی ساحلی اور بندرگاہی سکیورٹی ایک منظم نظام کے تحت کام کر رہی ہے، اور کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کیلئے خطرے کا تاثر دینا حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے لوئر دیر کے دو گروہوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے بنوں سرحد پر پولیس حملوں میں مطلوب دہشت گرد مدثر لارون کو ہلاک کر دیا ہے

مولانا خالد امین جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما تھے اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤقف رکھنے کے باعث نشانے پر تھے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ (آکاخیل) میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں لشکرِ اسلام کے 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خان عالم عرف رضوان، رفیق عرف حقیار اور حمزہ شامل ہیں

سیکیورٹی اداروں نے ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے سرگرم تھا۔