کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا استحکام، اس امن کا متبادل نہیں ہو سکتا جو سیاسی شمولیت، انسانی حقوق، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون سے جنم لیتا ہے۔ جب تک طالبان محض انکار کے بجائے قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتے، افغانستان میں پائیدار امن ایک دور کی حقیقت ہی رہے گا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت شدید سردی، نمونیا اور موسم کی سختیوں کے باعث جان بحق ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سرحدی علاقوں میں سخت پٹرولنگ کے باعث مہاجرین کو انتہائی دشوار گزار اور سرد راستے اختیار کرنا پڑے، جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس نے داعش خراسان کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے اس کے ترجمان اور الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی سلطان عزیز اعظّام کو گرفتار کر لیا
دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔
دنیا کا ہر والد یہ چاہتا ہے کہ اپنے حصے کے غم، تکالیف اورصدمے اپنی اولاد کو ورثے میں نہ دئیے جائیں۔ بعض سانحے مگر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے زخم اور ان سے رستا لہو، ان کی تکلیف اور اس المناک تجربے سے حاصل کردہ سبق ہماری اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہونے چاہئیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنے حال اور مستقبل کو خوشگوار، سنہری اور روشن بنا سکیں۔ سولہ دسمبر اکہتر بھی ایسا ہی ایک سبق ہے۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے مثال قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کی شناخت بھی سامنے آئی ہے، جن میں بعض براہِ راست حملوں میں ملوث پائے گئے جبکہ کچھ افراد سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی میں شامل تھے۔
پاکستان نے بھی بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس دہشت گردی کے واقعے سے شدید رنجیدہ ہے اور آسٹریلیا کی حکومت، عوام اور بالخصوص زخمیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
شہاب اللہ یوسفزئی کے مطابق “بین الاقوامی قانون میں تشدد کا تعین صرف الزامات سے نہیں ہوتا بلکہ آزاد معائنہ، میڈیکل اسیسمنٹ اور عدالتی جانچ لازم ہوتی ہے، جو اس بیان میں موجود نہیں۔”