خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے مشترکہ اجلاس میں امریکا اور ایران کے مابین حالیہ سفارتی پیش رفت اور مفاہمت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔
جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے پر پابندی کا انتباہ دیا ہے۔
تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے 17 خطرناک دہشتگرد مارے گئے جن میں اکثریت افغان باشندوں کی ہے جبکہ مزید 24 دہشتگرد شدید زخمی ہوئے ہیں.
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی فورسز نے خوارج اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں شروع کی ہیں۔ عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پی ٹی آئی اب انخلا کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟ کیا یہ واقعی عوامی مفاد کا معاملہ ہے یا پھر ایک مذموم سیاسی ایجنڈے کا حصہ؟
اجلاس میں جنوبی اور وسطی ایشیا میں بدلتے ہوئے سٹریٹجک حالات، انسداد دہشتگردی میں باہمی تعاون، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔