Category: جنوبی ایشیا

افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

باجوڑ میں 11 جولائی کے آپریشن میں ہلاک دوسرا ٹی ٹی پی دہشت گرد افغان شہری احمد مخلص نکلا۔

کبل میں افغان خودکش بمبار کے حملے کے بعد پی ٹی ایم نے دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن بیانیے کا سہارا لیا ہے۔

تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد فتنہ الخوارج نے عوامی جذبات مجروح کرنے اور پراپیگنڈا پھیلانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں آپریشن 11 گرج کے دوران خوارج کے اہم کمانڈروں سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

بدخشاں کے ضلع یافتلِ پایین میں طالبان کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ 11 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی اور جمہوریہ کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ سامنے آنے والے جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مربوط فوجی مہم کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

بدخشاں میں طالبان کے آرمی چیف قاری فصیح الدین اور گورنر امان الدین منصور کے درمیان اندرونی کشیدگی کے بعد قاری فصیح کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں معاشی بحران اور مہاجرین کی جبری واپسی کے باعث انسانوں کی غیر قانونی ترسیل اور زبردستی مشقت کے خطرات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے صوبہ بدخشان میں طالبان کی چوکی پر ہدفی حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 طالبان اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں، خواتین و اقلیتوں پر عائد جابرانہ پابندیوں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر کرم اور پکتیا کے قریب دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پشاور میں قومی پیغامِ امن کنونشن میں متفقہ پشاور اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو قرار دے دیا۔