Category: جنوبی ایشیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

طالبان حکومت کی طرف سے قرنیے کی پیوندکاری پر پابندی عائد کیے جانے کا فیصلہ اور اس کے طبی و سماجی اثرات کا جائزہ۔

ملا ہبت اللہ کی کتاب کے اصولوں کی روشنی میں ٹی ٹی پی کے نظریات کا تنقیدی جائزہ اور ان کے مابین موجود تضاد کا بیان۔

طالبان رجیم کے خلاف افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کی کارروائیوں میں تیزی، 6 صوبوں میں 7 نئے حملوں کے بعد مجموعی آپریشنز کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔

جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

امیر خان متقی کا منشیات پر بیان طالبان کے دہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اربوں ڈالر کی افیون اور مصنوعی منشیات میں طالبان خود ملوث ہیں۔

امریکہ سے افغان شہریوں کو پاکستان منتقل کرنے کے بلومبرگ کے انکشاف اور اس کے علاقائی امن پر اثرات پر اہم رپورٹ۔

پاکستان نے انٹیلی جنس آپریشنز کے ذریعے افغانستان سے فعال داعش خراسان کا نیٹ ورک اور پھیلاؤ کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

طالبان حکومت نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے 30 سالہ تجربہ کار 15 انسٹرکٹرز کو برطرف کر کے سراج الدین حقانی کے من پسند افراد کو تعینات کر دیا ہے۔

طالبان انٹیلی جنس پر پاکستان کے خلاف مبینہ منصوبے کا الزام، جس کے تحت داعش کے جعلی اعترافات روس اور دیگر ممالک کو پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔

خوست میں افغان طالبان کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور ٹی ٹی پی دہشت گرد ذبیح اللہ کی ملاقات نے افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی اور دونوں کے باہمی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔