ملک بھر میں 12 ربیع الاول پر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شہری جوش و خروش سے محبتِ رسول ﷺ میں سرشار ہو کر پروقار تقریبات اور جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔
ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔
تاریخی حقائق بھی اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرداروں کی قیادت میں بغاوتیں اور مسلح مزاحمت 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھی ہوئیں، اس وقت نہ سی پیک تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ۔ اس دور میں وسائل کی کوئی ایسی لوٹ مار موجود نہیں تھی جسے عوامی محرومی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا سکے۔
ایران کے آرمی کمانڈر میجر جنرل عامر حاتمی نے دشمن کی کوششیں ناکام قرار دیں، ملک کی فوجی و جوہری صلاحیتیں محفوظ رہیں، جبکہ بندر عباس میں رہائشی عمارت میں دھماکے سے دو منزلیں تباہ ہو گئیں اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں
امریکہ کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے ایرانی فوج نے کہا ہے کہ امریکی اڈے ہمارے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیا جائے گا
قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے بھارت دورے کو نئی دہلی مغربی حمایت کے تاثر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن روس کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات اور خطے میں کشیدگی سے متعلق اس کا طرزِ عمل اس بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے
حکام کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے عناصر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے یاد دلایا کہ حالیہ عرصے میں بنوں، اسلام آباد اور وانا سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے خودکش حملوں میں بھی حملہ آور غیر ملکی شہری تھے، جو سرحد پار دہشت گردی کے خدشات کی واضح تصدیق ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد اور عالمی قبولیت ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف عالمی دباؤ بڑھایا بلکہ طالبان کے اندر بھی اختلافات کو ہوا دی۔ اگر قیادت میں تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ طالبان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ ہوگا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر افغانستان کو سفارتی تنہائی سے نکالنا اور نظامِ حکومت کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہو سکتا ہے۔
عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔