عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی حکم پر حکومت کا کہنا ہے کہ طبی سہولیات سب کا حق ہیں، مگر کسی ایک قیدی کے لیے الگ قانون نہیں بن سکتا۔ حکومت اس فیصلے کا جائزہ لے کر نظرثانی اپیل دائر کرے گی۔
بنوں کے علاقے ڈومیل میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 90 لاکھ روپے کے انعامی کمانڈر ایوب ایوبی سمیت فتنۃ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
مظفر نگر میں مسلم خاتون سے بدسلوکی کا واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ بھارت میں گہرے ہوتے ہوئے اقلیتی تعصب، آئینی حقوق کی پامالی اور مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کی سیاست کا خوفناک مظہر ہے۔
طالبان اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر اقوامِ متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس میں خواتین کے خلاف 100 سے زائد امتیازی احکامات، تعلیم و روزگار پر پابندیوں اور جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
بی ایل اے کے پرچم کی تاریخ اور خانیتِ قلات سمیت تاریخی ریاستوں کے پرچموں میں تبدیلیوں پر مبنی بیانیے نے خطے کے پراکسی تنازع اور بیرونی اثر و رسوخ سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ناگالینڈ کے شہریوں اور نیشنلسٹ گروپس کی جانب سے پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد کا پیغام بھیجا گیا ہے، جس میں بھارتی بالادستی کے خلاف دونوں خطوں کی تاریخی جدوجہد اور 14 اگست کی یکسانیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں گی، آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی برقرار رہے گی۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ یاسین ضیا نے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت کو گوریلا کارروائیوں سے آگے بڑھا کر منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل تشکیل پا سکے۔
اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں بی ایل اے کے داعش خراسان اور القاعدہ سے لاجسٹک و تربیتی روابط کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
پنجشیر میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے حملے میں طالبان کا ایک رکن ہلاک، دو زخمی۔ بدخشاں میں طالبان اور جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 5 طالبان ارکان ہلاک، 16 زخمی اور 5 لاپتا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان خطے کے لیے دہشت گردی کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں طالبان کی سرپرستی میں فتنة الخوارج اور القاعدہ سرگرم ہیں۔
بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔
طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 70 ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ایغور جنگجوؤں کو ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل کر کے ان کی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔