Category: عالمی خبریں

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور و قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

جی 7 ممالک نے ایران سے حوثیوں کی حمایت اور اسلحہ فراہمی ختم کرنے جبکہ حوثیوں سے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یوناما کا یکطرفہ کردار سامنے آنے کے بعد یہ مؤقف نمایاں ہوا ہے کہ یہ ادارہ طالبان حکومت کے پراپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کے جغرافیائی پھیلاؤ اور قندھار سمیت اہم مراکز میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے سے طالبان رجیم کا حفاظتی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔

آریانا افغان ایئرلائنز نے کابل اور نئی دہلی کے درمیان کارگو پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین خطے میں مشتبہ نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

کنڑ میں فضائی حملے کے بعد ایک مقامی افغان خاتون کے بیان نے طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

افغان طالبان کے میڈیا نیٹ ورک سے منسلک پلیٹ فارم نے ویڈیو جاری کی ہے، جس میں سنکیانگ کے خلاف مسلح تحریک کی تائید کر کے گٹھ جوڑ واضح کر دیا گیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات کا مقصد اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔

پاکستان نے پاک افغان سرحد پر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ عوامی حلقوں نے فتنے کی اصل سرپرست قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ کو دیے گئے ذبیح اللہ مجاہد کے وضاحتی انٹرویو اور سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے مسجد حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔