خیبر پختونخوا میں بدامنی کی حالیہ لہر کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے مبہم بیانیے، عسکری ایکشن کی مخالفت اور پولیس کی استعداد کار میں عدم دلچسپی نے دہشت گردوں کو مضبوط کیا ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔
حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور اسلاموفوبیا پر اظہارِ تشویش؛ مقبوضہ علاقوں میں سچائی دبانے کے لیے استعمال ہونے والی غلط معلومات کی شدید مذمت۔
جب دنیا اندھیروں کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے اپنی بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے عالمی شور کو خاموشی اور امن میں بدل دیا۔ فنکار نے اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ جب ہر طرف سے مذاکرات کے دروازے بند ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے امن کی شمع روشن کی۔
یونیسف نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کو مستقبل کے لیے سنگی خطرہ قرار دیتے ہوئے 25 ہزار خواتین ورکرز کی کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
ایف بی آئی اور کینیڈین حکام نے بچوں کو بلیک میل کر کے خودکشی اور تشدد پر اکسانے والے آن لائن نیٹ ورک '764' کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر عالمی کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
قانونی جانچ پڑتال کے دوران شہریت کے عمل میں تاخیر پر قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ملزم کا انتہاپسندی کی طرف راغب ہونا اسی نظریاتی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے موجودہ بحران کے دوران کئی بار پاکستان کے مثبت کردار کی کھل کر تعریف کی ہے اور انہوں نے حالیہ بیانات میں اعتراف کیا کہ پاکستان کی کوششوں کی بدولت خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی وزن استعمال کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں 'کنفیوژن' کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا؛ ایران کو براہِ راست کال کرنے کا مشورہ۔
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات عوامی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار؛ پاکستان کی تجویز پر اب بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے۔